By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Use.
Accept
clicktv.inclicktv.inclicktv.in
  • हिन्दी न्यूज़
  • CRITICLES
  • OPINION
  • CITIES
  • ELECTIONS
  • SPORTS
  • WORLD
  • INDIA
    • Arunachal Pradesh
    • Andhra Pradesh
    • Andaman and Nicobar
    • Assam
    • Bihar
    • Chhattisgarh
    • Goa
    • Uttar Pradesh
    • Uttarakhand
    • West Bengal
    • Gujarat
    • Haryana
    • Himachal Pradesh
    • Jammu and Kashmir
    • Jharkhand
    • Karnataka
    • Kerala
    • Lakshadweep
    • Madhya Pradesh
    • Maharashtra
    • Manipur
    • Odisha
    • Punjab
    • Rajasthan
    • Tamil Nadu
    • Tripura
  • Education
  • Crime
  • Business
Search
  • Terms of Use
  • Privacy Policy
Reading: افغان طالبان اور ہم فارغینِ مدارس: ملّت کہاں کھڑی ہے؟
Share
Sign In
Aa
clicktv.inclicktv.in
Aa
  • Terms of Use
  • Privacy Policy
Search
  • हिन्दी न्यूज़
  • CRITICLES
  • OPINION
  • CITIES
  • ELECTIONS
  • SPORTS
  • WORLD
  • INDIA
    • Arunachal Pradesh
    • Andhra Pradesh
    • Andaman and Nicobar
    • Assam
    • Bihar
    • Chhattisgarh
    • Goa
    • Uttar Pradesh
    • Uttarakhand
    • West Bengal
    • Gujarat
    • Haryana
    • Himachal Pradesh
    • Jammu and Kashmir
    • Jharkhand
    • Karnataka
    • Kerala
    • Lakshadweep
    • Madhya Pradesh
    • Maharashtra
    • Manipur
    • Odisha
    • Punjab
    • Rajasthan
    • Tamil Nadu
    • Tripura
  • Education
  • Crime
  • Business
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2023 ClickTV.in. Designed By IBRAHIM ASHTAR . All Rights Reserved.
clicktv.in > Blog > Uncategorized > افغان طالبان اور ہم فارغینِ مدارس: ملّت کہاں کھڑی ہے؟
Uncategorized

افغان طالبان اور ہم فارغینِ مدارس: ملّت کہاں کھڑی ہے؟

Editor
Last updated: 2021/08/20 at 7:22 AM
Editor
Share
8 Min Read
SHARE

Click TV Special

*سید عدنان مرتضٰی

افغانستان کے متعلق مختصر سی تحریر لکھی تھی جس پر کچھ تبصرے ملے جو (مختصر) کچھ اس طرح تھے

1 احمق۔ 2 منحوس۔ 3 فتح سے جل رہا ہے۔ 4 اسے غیر کے سامنے چھکنے کی عادت ہے 5 رانچی چلا جا (کنایہ ہے کہ پاگل خانے چلے جاؤ)۔ 6 اسلام کے خلاف بولتا ہے- 7 اہل حدیث ہے کیا- اسے حنفیوں سے چِِڑ ہے۔ 8 اسے اسلامی حکومت سے دشمنی ہے۔ اس نے آر ایس ایس جوائن کر لیا كيا۔ وغیرہ وغیرہ

یہ سارے تبصرے انکی جانب سے تھے جو عالم ہیں کچھ فاضل ہیں ان میں سے کچھ بڑے دینی مدارس میں پڑھ رہے ہیں کچھ پڑھا رہے ہیں، کچھ سے میں واقف ہوں اکثریت سے ناواقف۔

اسی پر میں نے ایک مختصر پوسٹ لکھی کہ “اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھیں، خاص طور پر نوفارغینِ مدارس میں اس کا فقدان ہے”

اگر اس موضوع پر میری سابقہ پوسٹ کا خلاصہ نکالا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ کسی بھی مسئلہ میں جذبات سے نہیں بلکہ سنجیدگی سے فیصلہ کریں۔

اور یہ کوئی غلط بات بھی نہیں، بلکہ ہمارے بڑے بزرگان اسی بات کی تعلیم دیتے آئے ہیں۔ اور اسی بات پر عمل نہ کرکے ہمارے ملک کے کچھ بڑے بھی جذبات میں بہہ گئے اور مبارکبادی کی وڈیو وائرل کر دی اور میڈیائی سرخی میں آگئے جو کہ واقعی ان بزرگ کا غیر دانشمندانہ قدم تھا۔

میں نے نہ اسلام کی مخالفت کی اور نہ اس کے احکامات کی، اگر مخالفت کی ہے تو ان اسلامی اصطلاحات کی جو طالبان کے حق میں استعمال کی گئیں۔ اور اب بھی میں اسے غلط ہی کہہ رہا ہوں۔
اسلامی جہاد، اسلامی حکومت، نظام خلافت، فتح مکہ، اور قرآن سے سورہ فتح اور سورہ نصر کی آیات سے استدلال (گویا ساری آیتیں اسی موقع کے لئے نازل ہوئی ہوں) وہ بھی اس جماعت کے لئے جس کا عہد حکومت سن 1996 سے لیکر 2001 تک ظلم پر مبنی ہے، تعجب ہے! (اس پر اُس وقت کے دانشوروں کے اسٹیٹمنٹ دیکھے جاسکتے ہیں)
آپ ہزار بار امریکہ کی بربریت اور سفاکیت پر بولیں اور تحریریں لکھیں، لیکن اتنی آسانی سے کسی بھی طرح کی سیاست کو اسلامی رنگ نہ سمجھ لیں سوچیں، سمجھے اور نتائج کا انتظار کریں۔

آپ اس ملک میں ذرا ان سے سوال کریں جو اپنی تقریروں اور تحریروں میں آپ کو نظامِ خلافت اور امارتِ اسلامیہ کا خواب دکھاتے ہیں “آپ کی خلافت کا رخ کدھر ہے؟ کبھی آپ مصر کی جانب خلافت کے آنے کا انتظار کرتے ہیں، کبھی آپ بغدادی کو اپنا امیر کہہ دیتے ہیں کبھی آپ اردگان کو خلافتِ عثمانیہ کا دوسرا مؤسس مان لیتے ہیں اور اب یہ طالبان۔ ان علماء سے پوچھیں کہ آپ کا پروٹوکول کیا ہے کدھر سے آپ کی خلافت نمودار ہوگی اور کب آپ کی جھولی میں گرے گی؟ آپ بات کرتے ہیں خلافت کی جبکہ آپ اپنے علاقہ میں دوسرے مسالک کے مدرسہ کو برداشت کرنے کو تیار نہیں، آپ بات کرتے ہیں خلافت کی آپ کی حالت یہ ہے کہ اپنے مسلک کے علاوہ دوسرے مسلک کے نہ امام کو قبول کرنے کو تیار ہیں نہ اس کا مقتدی بننے کو۔

آپ ان سے پوچھیں کہ پچھلے 75 سالوں میں آپ نے کس میدان میں کام کیا؟ کون سا میدان ہے جس کے بارے میں فخر سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا؟ تعلیم کے میدان میں آپ پھسڈی ہیں، معاش کے میدان میں آپ نیل ہیں، سیاست میں آپ کی گنتی نہیں۔ اس سے بڑھ کر وہ مدارس جس پر آپ فخر کرتے ہیں اس نے پچھلے 25-30 سالوں میں کتنی شخصیتوں کو پیدا کیا؟
آپ ان سے پوچھیئے کہ آپ کہ مدارس میں فراغت کے بعد سند کے نام پر جو کاغذات ملتے ہیں وہ کس کام آتے ہیں؟ وہ تو اس لائق بھی نہیں کہ اس سے آپ کسی سرکاری دفتر میں کوئی کام کروا سکیں۔”

ان سے کہیں کہ خلافت چھوڑیں کم سے کم تعلیمی میدان میں جو مسلم بچوں کا حق ہے اسے ہی بحال کر دیں، وہی کافی ہے۔

آپ مدرسہ میں پڑھنے پڑھانے والے لوگ ہیں قرآن آپ کی نگاہوں میں ہے حدیث آپ کی زبانوں پر ہے، اصول اور فقہ پر آپ کی علمی بنیاد قائم ہے علماء ،محدیثین، فقہاء، شیخ الاسلام، مفکر اسلام، بحر العلوم، مرشد الامہ، قائد ملت، اور شیخ الھند جیسے جواہر آپ کی صحنِ مدارس میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود آپ اتنے جذباتی، اتنے فحش گو، پل بھر میں حواس کھو دینے والے، اختلافِ رائے کو سن کر فوراََ بپھرنے والے، اور غیر اخلاقی تہمت باندھنے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟

کیا آپ نے نہیں پڑھا؟

إنك لعلى خلق عظيم (قرآن)
ترجمہ: اے محمدؐ! آپ بلند اخلاق پر فائز ہیں

کیا آپ نے نہیں پڑھا؟

لم يكن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ فاحشا ولا متفحشا(متفق علیہ)
ترجمہ: رسولؐ نہ فحش گو تھے نہ بتکلف فحش گوئی کیا کرتے تھے۔

کیا آپ نے نہیں پڑھا؟

إن الله ليبغض الفاحش البذيء (ترمذی)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ فحش اور گھٹیا باتیں کرنے والے سے شدید نفرت کرتا ہے۔

ماشاء اللہ اس سے زیادہ آپ جانتے ہیں، ان آیات اور ان احادیث کو تقریر کا حصہ بنانے سے زیادہ اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے تو وہ انقلاب پیدا ہوگا جس انقلاب کے آپ منتظر ہیں اور جس کی امید میں ادھر ادھر نظریں دوڑا رہے ہیں۔

سیاست ہو یا مسلک دونوں میں اپنی رائے کو حجت نہ مانیں اور نہ کسی دوسرے کی رائے کو غلط کہنے میں جلدبازی سے کام لیں۔ حالات کا جائزہ لیں، حالات کو پڑھیں، پیش آنے والے واقعات وحوادث پر نظر رکھیں اور انکے عوامل پر غور کرکے اس پر اپنے مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
اور جتنا ہو سکے اخلاقی اور معاشی طور پر خود کو بنانے کی فکر کریں۔ اس لئے کہ یہی دو راستے ہیں جس سے سماج میں آپ خود کو ثابت کر سکتے ہیں۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ ؕ اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿سورہ مائدہ آیت 105﴾

اے ایمان والو! اپنی فکر کرو ، جب تم راہ راست پر چل رہے تو جو شخص گمراہ ہے وہ تمہارا کچھ نقصان نہیں پہونچا سکتا، اللہ ہی کے پاس تم سب کو جانا ہے پھر وہ تم سب کو بتلا دے گا جو کچھ تم سب کرتے تھے ۔

You Might Also Like

New Jammu & Kashmir without Article 370 & 35-A

WORLD SUFI FORUM GEN. SECRETRY PARTICIPATED IN INTERNATIONAL ‘WATER FOR ALL’ CONFERENCE 

Why UN should act cautiously on the Russell Tribunal on Kashmir!

Attack on Fatima Bibi Mosque in Kandahar: Trying Time for Sufis & Shias

भारतीय मुसलमानों की एकरूपता: अफ़साना या हक़ीक़त ?

Sign Up For Daily Newsletter

Be keep up! Get the latest breaking news delivered straight to your inbox.
[mc4wp_form]
By signing up, you agree to our Terms of Use and acknowledge the data practices in our Privacy Policy. You may unsubscribe at any time.
Editor August 20, 2021 August 20, 2021
Share This Article
Facebook Twitter Copy Link Print
Share
Previous Article آزادی میں خانقاہوں کے رول کو بھلایا نہیں جا سکتا: سید عمار احمد،نیّر میاں
Next Article طالبان نے قبائلی عصبیتوں کو شریعت کا لبادہ اوڑھايا Taliban turned Islam into Tribalism
Leave a comment Leave a comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Stay Connected

235.3k Followers Like
69.1k Followers Follow
11.6k Followers Pin
56.4k Followers Follow
136k Subscribers Subscribe
4.4k Followers Follow

Latest News

Century of Cinema Comes Alive at IFFD with T.R.I.S. Exhibition Showcasing Legends from Dilip Kumar to Shah Rukh Khan
Events INDIA REPORTS THE-MEDIA-RUMBLE March 24, 2026
The Actual Burial Site of Imam Hussain’s (RA) Head: A Historical and Scholarly Debate
Jammu and Kashmir OPINION WORLD April 11, 2025
Where’s the Holy Head of Hussain? Did You Really Stop To Think It Over in Your Head? Ghulam Rasool Dehlvi
CRITICLES Jammu and Kashmir OPINION WORLD April 9, 2025
Bani Adam: Children of Adam and Human Rights Protection By Ghulam Rasool Dehlvi
Children's corner WORLD August 31, 2023
//

Quick Link

  • OPINION
  • INDIA
  • REPORTS
  • CRITICLES
  • WORLD
  • Term & Condition
  • Privacy Policy

Quick Link

  • Andhra Pradesh
  • Arunachal Pradesh
  • Assam
  • Bihar
  • Gujarat
  • Haryana
  • Jammu and Kashmir
  • Jharkhand

Sign Up for Our Newsletter

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form id=”847″]

Follow US
© 2023 ClickTV.in. Designed By IBRAHIM ASHTAR . All Rights Reserved.
Join Us!

Subscribe to our newsletter and never miss our latest news, podcasts etc..

[mc4wp_form]
Zero spam, Unsubscribe at any time.
adbanner
AdBlock Detected
Our site is an advertising supported site. Please whitelist to support our site.
Okay, I'll Whitelist
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?