Century of Cinema Comes Alive at IFFD with T.R.I.S. Exhibition Showcasing Legends from Dilip Kumar to Shah Rukh Khan

New Delhi: 24th March A sweeping visual tribute to over a century of cinema is drawing attention at the International Film Festival of Delhi (IFFD), where the Tuli Research Centre for India Studies (T.R.I.S.) has unveiled a landmark exhibition bringing together some of the most iconic figures, films and artistic traditions from Indian and global film history. Curated by noted

Editor Editor

The Actual Burial Site of Imam Hussain’s (RA) Head: A Historical and Scholarly Debate

By Saira Ulfat, Srinagar, Jammu and Kashmir For us Muslims, the pinnacle of their faith is that we should devote our entire life, riches, and possessions to serving our Creator, whole and sole Owner, and our Sovereign Lord, the Almighty Allah. What could be a better source of solace for us than leading our life in the cause of Allah

Gulamrasool Dehlvi Gulamrasool Dehlvi

Where’s the Holy Head of Hussain? Did You Really Stop To Think It Over in Your Head? Ghulam Rasool Dehlvi

The head of Imam Hussain, the grandson of Prophet Muhammad and the martyr of the Battle of Karbala, is believed to have been taken to various places after his martyrdom. According to historical accounts, after Imam Hussain was martyred on the 10th of Muharram in 680 CE, his head was harmed, desecrated, severed and taken to the Umayyad Caliph Yazid

Gulamrasool Dehlvi Gulamrasool Dehlvi

Editor's Pick

رام جنم بھومی بابری مسجد مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل معروف مسلم تنظیموں نے “ہر قیمت پر امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کا عزم کیا تھا خواہ فیصلہ جو بھی ہو”۔ مسلم دانشورجنہوں نے ہندو اور مسلم دونوں فریقوں کو خوش کرنے کے لئے طویل مدت سے چل رہے متنازع معاملہ میں عدالت سے باہر مسئلہ کا حل نکالنے کا مطالبہ کیا تھا ، انہوں نے ملک میں دیرپا امن کی خاطر یہ زمین ہندوؤں کے حوالے کرنے کی اپیل کی تھی۔ تقریبا تمام مسلم تنظیموں نے رام جنم بھومی بابری مسجد متنازعہ اراضی کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی پاسداری کرنے کا عزم کیا تھا۔ لیکن اب جبکہ ہندوستان کی اعلیٰ عدالت نے ہندوؤں کو وہ زمین دے دی ہے جس پر بابری مسجد کی عمارت تقریبا پانچ صدیوں سے کھڑی تھی ، تو متعدد سنی رہنما اور علما سپریم کورٹ کے فیصلے پر ‘احترام’ اور ‘عدم اطمینان’ کے مابین گھرے معلوم پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالانکہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں مگر وہ ‘ناخوش’ ہیں اور اب کسی ایسی عدالت پر اعتماد نہیں کرسکتے جو ‘آستھا کو میرٹ پر’ ترجیح دیتا ہے ۔ ان میں سے بعض کے مطابق تو ایودھیا کا فیصلہ واضح ‘ناانصافی’ پر مبنی ہے ۔ مثال کے طور پر ، آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ کے ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ، مولانا سید اطہر علی ، ممبئی کے مرکز المعارف ایجوکیشن اور ریسرچ سنٹر کے سربراہ مولانا برہان الدین قاسمی اور اقراء فاونڈیشن کے تحت چلنے والے دارالقضا کے ممبر مولانا شعیب کوٹی ان مولویوں میں سے ہیں جو ایسا نظریہ رکھتے ہیں ۔ در حقیقت سنی مسلم رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد جن سے توقع تھی کہ وہ وسعت قلبی سے اس فیصلے کا خیرمقدم کریں گے خواہ یہ ان کے حق میں ہو یا نہ ہو لیکن اس کے برعکس انہوں نے بابری مسجد کی زمین کے نقصان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو فیصلہ سے قبل یہاں تک تجویز پیش کر چکے تھے کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو وہ ہندوؤں کویہ زمین بطور تحفہ دینے پر راضی ہوجائیں گے اور ایسا کرتے وقت وہ دوسری فریق پر کسی طرح کی کوئی شرط بھی نہیں رکھیں گے ۔ لیکن خیر سگالی کا یہ اشارہ جو ہندوستان میں ہندو مسلم تعلقات کا ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا تھا اب مندر کے حق میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد مفقود دکھائی دے رہا ہے ۔ اس کا اندازہ ایودھیا اراضی تنازعہ کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہندوستان کے متعدد سنی اسلامی علماء اور رہنماؤں کے مزاج سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہیں اس بات کا احساس ہےکہ اعلیٰ ترین عدالت نے انھیں مایوس کیا ہے۔ مثال کے طور پر — آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) نے واضح طور پر اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے ، اگرچہ انہوں نے نظرثانی کی درخواست داخل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (اے آئی ایم ایم)، ممبئی میں واقع رضا اکیڈمی ، انجمن اسلام ، جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) کے کچھ ممبران اور حضرت نظام الدین اولیا درگاہ کے کچھ خدا م ہندوستان کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ مسٹر ڈوبھال ، ممتاز مسلم رہنما اور وشو ہندو پریشد کے ممبران کی طرف سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ، جس میں کہا گیا کہ “اس اجلاس میں شرکت کرنے والے اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ کچھ داخلی اور بیرونی ملک دشمن عناصر ہمارے قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کے لئے موجودہ صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتی ہیں’’۔ یہ بالکل واضح ہو چکی تھی کہ اگرچہ مسلم فریق یہ مقدمہ جیت لیتی تب بھی ہندوستانی معاشرے میں کچھ ایسے عناصر موجود ہوں گے جو اسے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر استعمال کریں گے ، اور اس طرح فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا باعث بنیں گے۔ لہذا اس میٹینگ میں رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنے کا عزم کیا اور ملک کے تمام باشندوں سے اپیل کی کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی پاسداری کریں ، اور اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ “قومی مفاد دیگر تمام امور پر فوقیت کا درجہ رکھتا ہے’’۔ ایک طرف اس میٹینگ میں شریک ہونے والے رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرنے میں ذمہ داری ، حساسیت اور تحمل کا مظاہرہ کیا تو دوسری طرف مسلم تنظیم جمعیت علمائے ہند (جے یو ایچ) نے اس فیصلے سے عدم اتفاق کا اظہار کیا اور اسے “ناانصافی” قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ اس میں “حقیقت اور ثبوت کی کھلی توہین” تھی۔ لہذا اس میٹینگ میں شرکت کی دعوت قبول نہیں کی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جمعیۃ علمائے ہند امن کی دعوت دینے ، سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام اور مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرانے میں پیش پیش تھی۔ جمعیۃ نے “کمیونٹی کو مزید یقین دہانی کرانے” کے لئے مرکزی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس طرح ایودھیا سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہندوستانی مسلم قیادت میں دو نقطہ نظر سامنے آئے ہیں۔ ایک نظریہ کہتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا مکمل احترام اور غیر مشروط تعاون دیا جائے تو وہیں دوسرا نظریہ اس فیصلہ کو چیلنج کئے بغیر عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔ مؤخر الذکر کا مذہبی نقطہ نظر یہ ہے کہ درو دیوار ایک مرتبہ مسجد ہو گئی وہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسلامی شریعت کے مطابق صرف در ودیوار ہی نہیں بلکہ زمین بھی تا ابد مسجد کہلائے گی جس پر بابری مسجد کی عمارت قائم تھی ۔ وہ مانتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں مسجد تھی وہ آفاقی حرمت کا حامل ہے اور ہمیشہ کے لئے مقدس رہے گی ۔ لیکن اس نظریہ کے علما یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ ایک ڈھانچہ جس پر تنازع ہو وہ اسلامی عبادت کے لئے کس طرح مناسب ہوسکتا ہے۔ اس کا جواز اسلامی شریعت کی روشنی میں بھی نہیں ملتا جس شریعت کے مقاصد کی بنیاد پانچ اہم اور نیک امور کے حصول پر مبنی ہے ، جس میں سب سے اعلی اہمیت کا حامل جان کا تحفظ ہے۔ قابل ذکر بات ہے کہ شریعت اسلامیہ میں متعدد مسائل ہیں جن میں حالات زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے تبدیلی رونما ہوتی ہے اور اس طرح سہولت وآسانی کا دروازہ امت مسلمہ کے لیے ہر دور میں کھلا رہتا ہے۔جمہور فقہائے کرام کے نزدیک ان کے ساب بنیادی اسباب ہیں : ضرورت، حاجت ، دفع حرج ، عرف ، مصلحت ، ازالہ فساد اور عموم بلوی ۔ ضرورت کی صورت میں بعض ایسے مواقع ہیں جہاں جان ، مال ،عقل ، نسل اور دین کے تحفظ کے لیے مسائل میں آسانی اور سہولت کی راہ نکالنے کی گنجائش رہتی ہے۔ان ہی امور کا تحفظ در اصل شریعت کے مقاصد میں سے ہے ۔لہذا اگر بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی صورت میں اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ ٹھیک ہے مسجد کی زمین ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے تب بھی ہمیں مقاصد شریعت پر نظر کرنی پڑے گی جن کا مقصد دین ، جان ، مال ، عزت وآبرو کی حفاظت ، دفع حرج اور سماج میں امن وشانتی کا قیام ہے ۔ ان مقاصد کی روشنی میں اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کو مان لیں تو سمجھ لیں کہ ہم نے شریعت کے مقاصد کا خیال رکھا ۔یہ فقہی قاعدہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ الضرورات تبیح المحظورات یعنی ضرورتیں بعض ممنوعات کو بھی مباح کر دیتی ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کو من وعن قبول کرنا چاہئے ۔اگرچہ اس فیصلے کو بعض ریزولیوشن مانتے ہوں لیکن پھر بھی یہ مقاصد شریعت کے عین مطابق اورجس سے ہندوستان کے ہزاروں لاکھوں شہریوں کی جانوں کا تحفظ ہوگا ۔اگر اسے قبول نہ کیا جائے تو تباہی اور ہزاروں جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے اور اس طرح یہ معاملہ مقاصد شریعت کی خلاف ورزی کا باعث ہوگا ۔

Click Tv رام جنم بھومی بابری مسجد  مقدمہ میں سپریم کورٹ کے

Editor Editor
Weather
23°C
Lucknow
mist
23° _ 23°
78%
1 km/h

Follow US

Sex Harassment Charges Are “False, Fabricated”, Says Artist Subodh Gupta

NEW DELHI:  A day after allegations of repeated sexual misconduct surfaced against

Admin Admin

Vedantu launches WAVE – India’s first Online LIVE Interactive Learning Platform

Click Tv Platform based on AI and ML technology that sets a

Editor Editor

Kashmir Movement: Silencing of Dissent, Shaping of Narrative (I)

Click Tv The scars of partition of Indian sub-continent on religious ideology

Editor Editor

Moving Beyond Conceptions of Muslim vs. Sikh History

Click Tv Lahore is no ordinary city. It is a metaphor, appropriated

Editor Editor

Was Geelani serving the ‘sacred cause of Islam’?

ClickTV Special Syed Ali Shah Geelani’s political activism was chequered. He belonged

Editor Editor

Baghdadi Is Dead, But The Fight Against Extremism Isn’t Over | The Daily Caller

Click Tv The world celebrated when news broke out that Abu Bakr

Editor Editor

Jaish Chief Masood Azhar Warns Imran Khan Against Any Action On Him

Click Tv According to a report, the wanted terrorist has reportedly slammed

Editor Editor