By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Use.
Accept
clicktv.inclicktv.inclicktv.in
  • हिन्दी न्यूज़
  • CRITICLES
  • OPINION
  • CITIES
  • ELECTIONS
  • SPORTS
  • WORLD
  • INDIA
    • Arunachal Pradesh
    • Andhra Pradesh
    • Andaman and Nicobar
    • Assam
    • Bihar
    • Chhattisgarh
    • Goa
    • Uttar Pradesh
    • Uttarakhand
    • West Bengal
    • Gujarat
    • Haryana
    • Himachal Pradesh
    • Jammu and Kashmir
    • Jharkhand
    • Karnataka
    • Kerala
    • Lakshadweep
    • Madhya Pradesh
    • Maharashtra
    • Manipur
    • Odisha
    • Punjab
    • Rajasthan
    • Tamil Nadu
    • Tripura
  • Education
  • Crime
  • Business
Search
  • Terms of Use
  • Privacy Policy
Sign In
clicktv.inclicktv.in
  • Terms of Use
  • Privacy Policy
Search
  • हिन्दी न्यूज़
  • CRITICLES
  • OPINION
  • CITIES
  • ELECTIONS
  • SPORTS
  • WORLD
  • INDIA
    • Arunachal Pradesh
    • Andhra Pradesh
    • Andaman and Nicobar
    • Assam
    • Bihar
    • Chhattisgarh
    • Goa
    • Uttar Pradesh
    • Uttarakhand
    • West Bengal
    • Gujarat
    • Haryana
    • Himachal Pradesh
    • Jammu and Kashmir
    • Jharkhand
    • Karnataka
    • Kerala
    • Lakshadweep
    • Madhya Pradesh
    • Maharashtra
    • Manipur
    • Odisha
    • Punjab
    • Rajasthan
    • Tamil Nadu
    • Tripura
  • Education
  • Crime
  • Business
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2023 ClickTV.in. Designed By IBRAHIM ASHTAR . All Rights Reserved.
OPINIONUncategorizedWORLD

Malaysia is proposing “new narrative” of “compassionate Islam”

Click Tv Malaysia's Minister for Islamic affairs Mujahid Yusof Rawa has said his government is proposing “a new narrative" of "compassionate Islam”. Malaysia has one of Asia’s most vibrant economies…

Editor Editor November 18, 2019
INDIAJammu and KashmirOPINIONUncategorized

Rail services in Kashmir resumed fully on Sunday, after being suspended due to security reasons

Click Tv SRINAGAR: Rail services in the Kashmir Valley resumed fully on Sunday - over three months after being suspended due to security reasons- as the train chugged from Srinagar to…

Editor Editor November 18, 2019
INDIAJammu and Kashmir

Ayesha Aziz: India’s youngest pilot, Kashmir’s first woman

Click Tv Here are some facts about the young flier: Based in Mumbai, Ayesha Aziz, who hails from Khawaja Bagh in north Kashmir’s Baramulla district had a fascination for  flights and…

Editor Editor November 18, 2019
CRITICLESINDIAMaharashtraOPINIONREPORTS

رام جنم بھومی بابری مسجد مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل معروف مسلم تنظیموں نے “ہر قیمت پر امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کا عزم کیا تھا خواہ فیصلہ جو بھی ہو”۔ مسلم دانشورجنہوں نے ہندو اور مسلم دونوں فریقوں کو خوش کرنے کے لئے طویل مدت سے چل رہے متنازع معاملہ میں عدالت سے باہر مسئلہ کا حل نکالنے کا مطالبہ کیا تھا ، انہوں نے ملک میں دیرپا امن کی خاطر یہ زمین ہندوؤں کے حوالے کرنے کی اپیل کی تھی۔ تقریبا تمام مسلم تنظیموں نے رام جنم بھومی بابری مسجد متنازعہ اراضی کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی پاسداری کرنے کا عزم کیا تھا۔ لیکن اب جبکہ ہندوستان کی اعلیٰ عدالت نے ہندوؤں کو وہ زمین دے دی ہے جس پر بابری مسجد کی عمارت تقریبا پانچ صدیوں سے کھڑی تھی ، تو متعدد سنی رہنما اور علما سپریم کورٹ کے فیصلے پر ‘احترام’ اور ‘عدم اطمینان’ کے مابین گھرے معلوم پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالانکہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں مگر وہ ‘ناخوش’ ہیں اور اب کسی ایسی عدالت پر اعتماد نہیں کرسکتے جو ‘آستھا کو میرٹ پر’ ترجیح دیتا ہے ۔ ان میں سے بعض کے مطابق تو ایودھیا کا فیصلہ واضح ‘ناانصافی’ پر مبنی ہے ۔ مثال کے طور پر ، آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ کے ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ، مولانا سید اطہر علی ، ممبئی کے مرکز المعارف ایجوکیشن اور ریسرچ سنٹر کے سربراہ مولانا برہان الدین قاسمی اور اقراء فاونڈیشن کے تحت چلنے والے دارالقضا کے ممبر مولانا شعیب کوٹی ان مولویوں میں سے ہیں جو ایسا نظریہ رکھتے ہیں ۔ در حقیقت سنی مسلم رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد جن سے توقع تھی کہ وہ وسعت قلبی سے اس فیصلے کا خیرمقدم کریں گے خواہ یہ ان کے حق میں ہو یا نہ ہو لیکن اس کے برعکس انہوں نے بابری مسجد کی زمین کے نقصان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو فیصلہ سے قبل یہاں تک تجویز پیش کر چکے تھے کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو وہ ہندوؤں کویہ زمین بطور تحفہ دینے پر راضی ہوجائیں گے اور ایسا کرتے وقت وہ دوسری فریق پر کسی طرح کی کوئی شرط بھی نہیں رکھیں گے ۔ لیکن خیر سگالی کا یہ اشارہ جو ہندوستان میں ہندو مسلم تعلقات کا ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا تھا اب مندر کے حق میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد مفقود دکھائی دے رہا ہے ۔ اس کا اندازہ ایودھیا اراضی تنازعہ کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہندوستان کے متعدد سنی اسلامی علماء اور رہنماؤں کے مزاج سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہیں اس بات کا احساس ہےکہ اعلیٰ ترین عدالت نے انھیں مایوس کیا ہے۔ مثال کے طور پر — آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) نے واضح طور پر اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے ، اگرچہ انہوں نے نظرثانی کی درخواست داخل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (اے آئی ایم ایم)، ممبئی میں واقع رضا اکیڈمی ، انجمن اسلام ، جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) کے کچھ ممبران اور حضرت نظام الدین اولیا درگاہ کے کچھ خدا م ہندوستان کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ مسٹر ڈوبھال ، ممتاز مسلم رہنما اور وشو ہندو پریشد کے ممبران کی طرف سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ، جس میں کہا گیا کہ “اس اجلاس میں شرکت کرنے والے اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ کچھ داخلی اور بیرونی ملک دشمن عناصر ہمارے قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کے لئے موجودہ صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتی ہیں’’۔ یہ بالکل واضح ہو چکی تھی کہ اگرچہ مسلم فریق یہ مقدمہ جیت لیتی تب بھی ہندوستانی معاشرے میں کچھ ایسے عناصر موجود ہوں گے جو اسے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر استعمال کریں گے ، اور اس طرح فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا باعث بنیں گے۔ لہذا اس میٹینگ میں رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنے کا عزم کیا اور ملک کے تمام باشندوں سے اپیل کی کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی پاسداری کریں ، اور اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ “قومی مفاد دیگر تمام امور پر فوقیت کا درجہ رکھتا ہے’’۔ ایک طرف اس میٹینگ میں شریک ہونے والے رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرنے میں ذمہ داری ، حساسیت اور تحمل کا مظاہرہ کیا تو دوسری طرف مسلم تنظیم جمعیت علمائے ہند (جے یو ایچ) نے اس فیصلے سے عدم اتفاق کا اظہار کیا اور اسے “ناانصافی” قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ اس میں “حقیقت اور ثبوت کی کھلی توہین” تھی۔ لہذا اس میٹینگ میں شرکت کی دعوت قبول نہیں کی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جمعیۃ علمائے ہند امن کی دعوت دینے ، سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام اور مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرانے میں پیش پیش تھی۔ جمعیۃ نے “کمیونٹی کو مزید یقین دہانی کرانے” کے لئے مرکزی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس طرح ایودھیا سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہندوستانی مسلم قیادت میں دو نقطہ نظر سامنے آئے ہیں۔ ایک نظریہ کہتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا مکمل احترام اور غیر مشروط تعاون دیا جائے تو وہیں دوسرا نظریہ اس فیصلہ کو چیلنج کئے بغیر عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔ مؤخر الذکر کا مذہبی نقطہ نظر یہ ہے کہ درو دیوار ایک مرتبہ مسجد ہو گئی وہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسلامی شریعت کے مطابق صرف در ودیوار ہی نہیں بلکہ زمین بھی تا ابد مسجد کہلائے گی جس پر بابری مسجد کی عمارت قائم تھی ۔ وہ مانتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں مسجد تھی وہ آفاقی حرمت کا حامل ہے اور ہمیشہ کے لئے مقدس رہے گی ۔ لیکن اس نظریہ کے علما یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ ایک ڈھانچہ جس پر تنازع ہو وہ اسلامی عبادت کے لئے کس طرح مناسب ہوسکتا ہے۔ اس کا جواز اسلامی شریعت کی روشنی میں بھی نہیں ملتا جس شریعت کے مقاصد کی بنیاد پانچ اہم اور نیک امور کے حصول پر مبنی ہے ، جس میں سب سے اعلی اہمیت کا حامل جان کا تحفظ ہے۔ قابل ذکر بات ہے کہ شریعت اسلامیہ میں متعدد مسائل ہیں جن میں حالات زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے تبدیلی رونما ہوتی ہے اور اس طرح سہولت وآسانی کا دروازہ امت مسلمہ کے لیے ہر دور میں کھلا رہتا ہے۔جمہور فقہائے کرام کے نزدیک ان کے ساب بنیادی اسباب ہیں : ضرورت، حاجت ، دفع حرج ، عرف ، مصلحت ، ازالہ فساد اور عموم بلوی ۔ ضرورت کی صورت میں بعض ایسے مواقع ہیں جہاں جان ، مال ،عقل ، نسل اور دین کے تحفظ کے لیے مسائل میں آسانی اور سہولت کی راہ نکالنے کی گنجائش رہتی ہے۔ان ہی امور کا تحفظ در اصل شریعت کے مقاصد میں سے ہے ۔لہذا اگر بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی صورت میں اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ ٹھیک ہے مسجد کی زمین ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے تب بھی ہمیں مقاصد شریعت پر نظر کرنی پڑے گی جن کا مقصد دین ، جان ، مال ، عزت وآبرو کی حفاظت ، دفع حرج اور سماج میں امن وشانتی کا قیام ہے ۔ ان مقاصد کی روشنی میں اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کو مان لیں تو سمجھ لیں کہ ہم نے شریعت کے مقاصد کا خیال رکھا ۔یہ فقہی قاعدہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ الضرورات تبیح المحظورات یعنی ضرورتیں بعض ممنوعات کو بھی مباح کر دیتی ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کو من وعن قبول کرنا چاہئے ۔اگرچہ اس فیصلے کو بعض ریزولیوشن مانتے ہوں لیکن پھر بھی یہ مقاصد شریعت کے عین مطابق اورجس سے ہندوستان کے ہزاروں لاکھوں شہریوں کی جانوں کا تحفظ ہوگا ۔اگر اسے قبول نہ کیا جائے تو تباہی اور ہزاروں جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے اور اس طرح یہ معاملہ مقاصد شریعت کی خلاف ورزی کا باعث ہوگا ۔

Click Tv رام جنم بھومی بابری مسجد  مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل معروف مسلم تنظیموں نے "ہر قیمت پر امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کا عزم…

Editor Editor November 18, 2019
CRITICLESINDIAMaharashtraOPINIONREPORTS

अयोध्या फैसला: भारतीय मुसलमानों के लिए मित्रता बढ़ाने का समय

Click Tv राम जन्मभूमि बाबरी मस्जिद मुकदमे में सुप्रीम कोर्ट के फैसले से पहले प्रसिद्ध मुस्लिम संगठनों ने “हर कीमत पर अमन और सद्भाव कायम रखने का इरादा किया था…

Editor Editor November 18, 2019
CrimeCRITICLESOPINIONREPORTSUncategorizedWORLD

A stand before UNHRC in Geneva to renounce violence and promote peace

Click Tv Under the slogan "Unite for Peace" The International Alliance and Maat for Peace and Development organize a stand before the Human Rights Council in Geneva to renounce violence…

Editor Editor November 14, 2019
CITIESINDIAKeralaTeam

(India) A Unique Jewish-Muslim Friendship Story

Click Tv When Sarah Cohen, Kerala’s oldest Jewish person, passed away on August 30 she was just five days shy of turning 97. “According to the Hebrew calendar, it is…

Editor Editor November 13, 2019
EducationEventsINDIAOPINIONREPORTS

JMI made “momentous contribution” in strengthening nation’s unity: PM

Click Tv PM Modi hails Jamia's “momentous contribution” in strengthening nation’s unity Jamia Millia Islamia(JMI) has made a “momentous contribution” in strengthening the country’s unity and its socio-cultural fabric during…

Editor Editor November 13, 2019
EducationOPINIONREPORTSUncategorized

NGOs Continue Training in the Universal Periodic Review process in Geneva

Click Tv AIPD, Maat and ICG Continue the Training Program on the UPR Mechanism, with the Participation of 20 Youth from 9 Arab, European and African Countries On Sunday, November…

Editor Editor November 12, 2019
AuthorUncategorizedWORLD

Ghulam Rasool Dehlvi on Eid Milad un-Nabi and the message of Mercy

Click Tv Eid Milad-un-Nabi — the holy birthday of Prophet Muhammad (pbuh) — falls on November 10 this year, which is known as the 12th Rabi’ ul-Awwal according to the…

Editor Editor November 9, 2019
1 2 … 19 20 21 22 23 … 68 69

Stay Connected

235.3k Followers Like
69.1k Followers Follow
11.6k Followers Pin
56.4k Followers Follow
136k Subscribers Subscribe
4.4k Followers Follow

Latest News

Qur’anic Fruits for Health and Nutrition: Summer Special
OPINION May 2, 2026
Century of Cinema Comes Alive at IFFD with T.R.I.S. Exhibition Showcasing Legends from Dilip Kumar to Shah Rukh Khan
Events INDIA REPORTS THE-MEDIA-RUMBLE March 24, 2026
The Actual Burial Site of Imam Hussain’s (RA) Head: A Historical and Scholarly Debate
Jammu and Kashmir OPINION WORLD April 11, 2025
Where’s the Holy Head of Hussain? Did You Really Stop To Seriously Think It Over? By Ghulam Rasool Dehlvi
CRITICLES OPINION WORLD April 9, 2025
//

Quick Link

  • OPINION
  • INDIA
  • REPORTS
  • CRITICLES
  • WORLD
  • Term & Condition
  • Privacy Policy

Quick Link

  • Andhra Pradesh
  • Arunachal Pradesh
  • Assam
  • Bihar
  • Gujarat
  • Haryana
  • Jammu and Kashmir
  • Jharkhand

Sign Up for Our Newsletter

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form id=”847″]

Follow US
© 2023 ClickTV.in. Designed By IBRAHIM ASHTAR . All Rights Reserved.
Join Us!

Subscribe to our newsletter and never miss our latest news, podcasts etc..

[mc4wp_form]
Zero spam, Unsubscribe at any time.
adbanner
AdBlock Detected
Our site is an advertising supported site. Please whitelist to support our site.
Okay, I'll Whitelist
Welcome Back!

Sign in to your account

Lost your password?